ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بندی معاملہ :غریب سو رہاہے چین کی نیند ، امیر لے رہا ہے نیند کی گولی،مودی کادعویٰ،اپوزیشن پرتنقید

نوٹ بندی معاملہ :غریب سو رہاہے چین کی نیند ، امیر لے رہا ہے نیند کی گولی،مودی کادعویٰ،اپوزیشن پرتنقید

Tue, 15 Nov 2016 15:44:29    S.O. News Service

غازی پور؍اترپردیش،14؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )بڑے نوٹوں کے چلن کو بند کرنے کے اپنے فیصلے کو غریب حامی بتاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج حزب اختلاف،خاص طور پر کانگریس کو نشانہ پر لیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانوں کی راتوں کی نیند یں اڑ گئی ہیں اورغریب آدمی چین کی نیند سو رہاہے۔مودی نے یہاں بی جے پی کی پریورتن یاترا میں کہاکہ نوٹوں کو بند کرنے کے بعدغریب آدمی چین کی نیندسورہاہے جبکہ امیر نیند کی گولیوں کے لیے چکر کاٹ رہا ہے۔غریبوں کے سامنے آ رہی پریشانیوں کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیر اعظم نے دعو یٰ کیاکہ عام آدمی کی پریشانی کو وہ خوب سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کانگریس بیان جاری کرتی ہے ، میں غریبوں کی نبض سمجھتا ہوں، اپوزیشن کو پھٹکار لگاتے ہوئے مودی نے کہاکہ نوٹ بندی کے بعد کچھ سیاسی پارٹیاں پریشان ہیں، انہیں نوٹوں کی مالائیں پہننے کی عادت تھی، اب ان کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچا ہے کہ 500اور 1000کے نوٹوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا دیں۔مودی نے کسی کا نام لیے بغیر دعوی کیا کہ کچھ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہے، وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ مودی جی آپ نے ایک اچھا کام کیا ہے،لیکن وہ اپنے پارٹی کارکنوں کو میرے فیصلے کی مخالفت کرنے کے لیے اکساتے ہیں۔ان کا بالواسطہ اشارہ بی ایس پی، ایس پی اور آپ کی طرف تھا جنہوں نے اس قدم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔مودی نے کہا کہ اس قدم سے کئی طاقتور لوگوں پر اثر پڑے گا لیکن وہ غریبوں کی خاطر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جن لوگوں کے پاس بھاری پیسہ ہے وہ بڑے طاقتور لوگ ہیں لیکن میں نے یہ جنگ غریبوں کے لیے چھیڑی ہے۔

مودی نے نوٹ بند ی کے فیصلے پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں جب شادی ہو اور بارات آنے والی ہو ،تو اپنا بھی دل کرتا ہے کہ گھر کی دیواروں پر اچھا رنگ روغن لگائیں،لیکن اس کی گند دس دن تک رہتی ہے، ہم دیوار میں بدبو کے باوجود اچھے رنگ لگاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی کام کریں، تھوڑی بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن ارادہ نیک ہونا چاہیے ۔جو میں کر رہا ہوں، ملک کی بھلائی کے لیے کر رہا ہوں،کچھ سیاسی پارٹیاں پریشان ہیں، انہیں فکر ستا رہی ہے کہ اب کیا کریں، نوٹوں کی مالائیں کہاں لے جائیں۔مودی نے مثال کی مدد سے اپنی بات سمجھائی کہ مدھیہ پردیش میں کسی سرکاری افسر کے گھر میں انکم ٹیکس والے گئے، تو بستر کے نیچے سے 3 کروڑ روپے نکلے ۔میں ایک ایک گھر میں تلاش کرنے جاؤں گا تو مجھے کتنے سال لگیں گے، ایک جگہ دیکھوں گا تو دوسری جگہ چھپا لے گا اور دوسری جگہ دیکھوں گا تو تیسری جگہ چھپا لے گا،اسی لیے تو میں نے فیصلہ کیا ہے کہ 500 اور 1000 کے نوٹ کاغذ کی ردی میں ڈالو۔انہوں نے کہا کہ اب غریب اور امیر ایک جیسے ہو گئے ہیں۔عوام کو اس فیصلے سے جو تکلیف ہو رہی ہے، اس کی انہیں فکر ہے۔آپ کی تکلیف کم ہو، اس کے لیے جتنا کرنا پڑے، کرتا رہوں گا،لیکن کچھ لوگوں کو تو ذرا زیادہ ہی تکلیف ہو رہی ہے۔مودی نے کہا کہ ایمانداری کے نام پر ملک کی عوام کو گمراہ کرنے والے لیڈروں سے وہ کہنا چاہتے ہیں کہ 500 اور 1000 کے نوٹ یعنی بلیک منی جانی چاہیے اور بے ایمانی جانی چاہیے ، اسی لیے اسے ہٹاؤ۔


Share: